کوئی غزل سنا کر کیا کرنا

کوئی غزل سنا کر کیا کرنا یوں بات بڑھ کر کیا کرنا تم میرے تھے میرے ہو دنیا کو بتا کر کیا کرنا تم عہد نبھاو چاہت سے کوئی رسم نبھا کر کیا کرنا تم خفا بھی اچھے لگتے ہو پھر تم کو منا کر کیا کرنا تیرے در پہ آ کے بیٹھے ہیں ابContinue reading “کوئی غزل سنا کر کیا کرنا”

Create your website with WordPress.com
Get started